Jaun Elia's Thoughts About New Year In Urdu

Jaun Elia's Thoughts About New Year In Urdu



Jaun Elia's Thoughts About New Year In Urdu

جون ایلیا، فرنود __  
             
"  میزانیہ "

تمھیں لوٹا اور تمہارے ذہنوں کو لتاڑا جاتا ہے اور تم سنڈاس کے پتھر  کی طرح چپ رہتے ہو ۔ تمھاری اس چپ نے میرے سارے خوابوں کو تہس نہس کر دیا ہے ۔ مجھے بڑا اچنبھا ہے کہ تم اپنے بیریوں کا تیار کیا ہوا زہر پی رہے ہو اور جی رہے ہو ۔ یہ زہر فوراً اثر نہیں کرتا ۔ یہ ذرا دیر بعد اثر کرتا ہے ۔ کیا خیال ہے تمہارا ، آخر تم کب تک زندگی کے سانس لیتے رہو گے ؟ کب تک یعنی کب تک ؟

سنو اور گنو، جھوٹ ادھیڑو  اور سچ بنو ! تم اپنے مسند آراؤں اور رہ نماؤں کو ذلیل اور رذیل جانو ۔ ہاں میں یعنی جون ایلیا اپنے خیال اور اپنی مقال کے پورے طنطنے کے ساتھ تم سے یہ کہہ رہا ہوں کہ انھیں ذلیل اور رذیل جانو اور ان کی کوئی بھی بات نہ مانو ۔

تمھارے شہروں کے چور کوتوال بن گئے ہیں ۔ تمھارے شہروں کے شہر دار جرائم پیشہ ہیں ۔ تمھارے چوکی دار ڈکیت ہیں ۔ تمھارے سارے مسیحا مریض ہیں اور تمھارے دادرس قاتل ہیں ۔

میں اور تم قزاقوں کے نرغے میں گھر گئے ہیں ۔ جو بھی کہنے اور اپنی کہن منوانے کی طاقت رکھتا ہے وہ تمھاری صبحوں اور شاموں کے راستے کا قزاق ہے ۔

تمھیں وہ سر دھرے نصیب ہوئے ہیں جن کے سر قلم کیے جانے چاہییں ۔ یہ لوگ تمھارے وجود اور شہود کی سب سے بڑی بدبختی ہیں ۔
حاکم بھی بدمعاش ہے اور حکیم بھی بدمعاش ہے ۔

تمھارے ساتھ اب تک جو کچھ پیش آیا ہے تم اس پر گریہ کرنے کی بھی سکت نہیں رکھتے ۔ کوئی شبہ نہیں کہ تم تاریخ کی ایک ندامت اور ملامت ہو ۔ میں تمھارے دکھ جھیلتا ہوں اور اپنے اندر شرماتا ہوں ۔ میں تمھیں اپنی ذلت اور رسوائی جانتا ہوں اور اسی لیے میں اپنے آپ کو ذرا بھی نہیں گردانتا ہوں ۔ 

تم اپنے اور اپنے دشمنوں کے خلاف صف آرا ہو جاؤ ۔ اپنے اور ان کے سینوں سے حساب لو، اپنے اور ان کے سانسوں سے حساب لو۔ اپنے اور ان کے ہونٹوں سے حساب لو۔

میں شاید بس ایک بات کہنا چاہتا ہوں ۔ بس ایک بات ۔ اور وہ یہ کہ تم جن کی عزت کرتے ہو ، جن کا احترام کرتے ہو ، وہ تاریخ کے سب سے زیادہ گھٹیا لوگ ہیں ۔ میں نے جو اندازہ لگایا ہے ، میرا جو حساب ہے وہ یہی ہے اور یہی تمھارے ماہ و سال کا میزانیہ ہے ۔

(جون ایلیا)

Post a Comment

0 Comments