《جشنِ آزادی، 14 اگست کے حوالے سے》
(حُرِیّتِ اَفکار)
پھر تازہ مَعرکہ ایجاد کرو تم
ہر بازوئے مُسلِمْ فولاد کرو تم
کعبے کو کرونا سے آزاد کرو تم
چاہے تو مئےخانے آباد کرو تم
چاہے تو فِرنگئِ نو کر بنے رہو
بہتر ہے یزیدی کو ناشاد کرو تم
بہتر ہے تم بھی بُت شِکن ٹھہرو
چاہے تو صنم خانے آباد کرو تم
نئے ملک کا کوئی طلبگار نہیں ہے
کشمیر و فلسطین کو آزاد کرو تم
♧ گستاخ اٹھے ہیں ، پس فَاقْتُلُوْہُ
ہے حکم خدا پھر سے جہاد کرو تم
ہر سال یہ ڈھونگ رچایا نہ کرو
ورنہ سَچ مُچ یہ ملک آزاد کرو تم
حُرِیّتِ اَفکار کو اپنا نا ہی ہوگا
اسلام کودشمن سےچھڑانا ہی ہوگا
(از بندۂ خاکسار: راؤف ساگر قادری رضوی)
_________________________________________________________________
حدیث کی رو سے واحد کا صیغہ استعمال کیا گیا۔♧
فَحَدَّثَنَا عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: « مَنْ سَبَّ نَبِيًّا فَاقْتُلُوهُ، وَمَنْ سَبَّ أَصْحَابِي فَاضْرِبُوهُ ».
ترجمہ: حضرت مولیٰ علی ؓ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا : جو نبی علیہ السلام کے بارے میں بکواس کرے اسے کاٹ کر رکھ دو اور جو اصحابہ کرام ؓ کے بارے میں بکواس کرے اسے (کوڑے) مارو ۔
( كتاب: الشفا بتعريف حقوق المصطفىﷺ )


0 Comments